191

وہ قدرتی سبزی جس نے بارشوں کے بعد تھر کو سفید چادر پہنا دی

مون سون کی بارشوں سے جہاں صحرائےتھر میں مختلف اقسام کی سبزیاں پیدا ہوتی ہیں تو وہیں قدرتی طور پر گرج و چمک کےساتھ ہونےوالی بارشوں میں نایاب مشروم بھی پیدا ہوتی ہے جس کا صحراء کے باشندے شدت سے انتظار کرتے ہیں اور بڑے ہی شوق سےکھاتےہیں ۔

حرائےتھر کی گرم ریت پرجب بارش کےقطرے موتیوں کےمانگ گرتے ہیں تویہ بیابان صحراء گلستان میں تبدیل ہوجاتا ہےگرم ریت کےآغوش سے طرح طرح کے میوے اگلنا شروع ہوجاتے ہیں، تھری مشروم ایسا ہی ایک قیمتی سبزی ہےجسے مقامی زبان میں کھمبی کہا جاتا ہےسفید رنگت اور دو اجناس پےمشتمل مشروم کھمبی ذائقے میں اپناثانی نہیں رکھتی, صحراء میں رات کی بارش کے بعد السوخ پیدا ہونے والی مشروم کو تین گھنٹے تک اگر ریت سے نہ نکالا جائے تو یے پھول کی طرح مرجھاکر ختم ہوجاتی ہےضلع عمرکوٹ میں تھری باشندے صحراء تھرکی سوغات مشروم فروخت کرنے میں مصروف ہیں کیوںکہ بارش کے بعد قدرت نےان پرروزگار کےدروازے کھول دیےہیں۔

تھرکے غریب لوگ ٹیلوں میں کھلےمیدانوں میں مشروم کھمبی جمع کرکےشہرلاکر دو سوسےتین سو روپے کلوکےحساب سے فروخت کرتے ہیں پاکستان بھر خصوصاً سندھ میں لوگ ان مشروم کی کئی منفرد ذائقےڈشیز تیار کی جاتی ہےماہرین کےصحت مطابق قدرتی مشروم کھمبی میں بےشمار وٹامنز ہوتےہیں شادیوں میں میں مشروم اور کاجو کی خصوصی ڈشیز تیارکی جاتی ہےگوشت سے کئی درجہ بھتر تصور کیا جاتا ہےاور “مشروم” کھمبی میں وافر مقدار وٹامن ڈی شامل ہوتی ہے کھمبی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کوجوڑنے اور ہڈیوں کےامراض سمیت کئی بیماریوں میں استعمال ہوتی ہے۔

لوگ خشک کرکےکھمبی کو کئی ماہ تک استعمال کرتےہیں تھرمیں کھمبی کےعلاوہ بہت سی سبزیاں جن میں قابل ذکرپالک کی طرز ایک سبزی جسےمقامی زبان میں “میڑرا”گوار، مونگری،سانگری، ٹنیڈے،بیگن، چبڑ نمایاں ہےانکی انتہائی لذیذ ذائقہ دارڈشیز تیار کی جاتی ہےان سبزیوں کی خاص بات یہ کہ سبزیاں قدرتی وٹامنز سےبھرپور ہوتی ہےکیونکہ ان سبزیوں کی کاشت کسی بھی قسم کی کھاد یاکیمکل سپرے وغیرہ کااستعمال نہیں کیاجاتا ہےتھرمیں ان سبزیوں کےعلاوہ تل مختلف دالیں باجرہ وغیرہ کی بھی فصلوں کی پیداوار ہوتی ہےاس کےعلاوہ تھر میں کیکرکا نایاب گوند بھی پایاجاتا ہےغریب تھری باشندےشہروں میں جاکر زرعی اجناس اور سبزیاں فروخت کرکےاپنا ذریعہ معاش اور روزگار حاصل کرتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں