72

ٹیچنگ ایک نہایت ذمہ دارانہ پیشہ ہے.

ٹیچنگ ایک ایسا پیشہ ہے جس میں آپ کو بہت زیادہ ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر لے کر ان بچوں کی دماغی پرورش کرنی ہوتی ہے جو آپ کو ایک استاد کو درجہ دیتے ہیں. بد قسمتی سے یہ پیشہ اور ہمارا ایجوکیشن سسٹم دن بدن زوال کا شکار ہو رہا ہے جس کا خمیازہ ہماری نوجوا ن نسل کو بھگتنا پڑ رہا ہے لیکن حیرت اس نوجوان نسل کے رویے پر ہے جنہیں نہ تو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہے اور نہ ہی نالج ان کے نزدیک ایسی چیز ہے جو زندگی کے لیے بہت ضروری ہے. اس زوال کا اصل سبب ایک تو ہمارا رٹا سسٹم ہے اور دوسرا سبب وہ استاتذہ ہیں جو کبھی بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کو تیار نہیں.
میں نے اپنا ٹیچنگ کیرئیر دو ہزار آٹھ میں تھائی لینڈ سے شروع کیا تھا. اس پروفیشن نے مجھے نہ صرف عزت و آبرو سے نوازا بلکہ آج میں جو کچھ ہوں اس کا بہت زیادہ کریڈٹ اس پروفیشن کو جاتا ہے. میں نے پڑھانے کے ساتھ خود بھی پڑھا اور اپنے آپ کو ایجوکیٹ کرنے کی پوری کوشش کی ہے. آپ دنیا کے کسی بھی پروفیشن میں چلے جائیں وہاں آپ بہت کچھ لرن کریں گے اگر آپ میں آگے بڑھنے کی لگن ہے لیکن ٹیچنگ میں آپ انسانی نفسیات کی سٹڈی کرتے ہیں. ایک کلاس میں اگر بیس طالب علم ہیں تو ان میں سے اسی فیصد وہ ہوں گے جن کا زندگی کے بارے میں نہ تو خواب ہو گا نہ ہی انہیں آپ موٹی ویٹ کرسکیں گے. پندرہ فیصد وہ ہوں گے جن کا کوئی نا کوئی پسندیدہ مضمون ہو گا اور انہوں نے مستقبل کے لیے کوئی نہ کوئی پلان کیا ہو گا. باقی پانچ فیصدوہ سٹوڈنٹ ہوں گے جو اپنے خوابوں کو لے کر پاگل پن کی حد تک سنجیدہ ہوں گے. یہ بیس فیصد طالب علم آپ کی توجہ کے خصوصی مستحق ہوتے ہیں اور اگر ان کا پسندیدہ سبجیکٹ بھی وہ ہے جو آپ پڑھا رہے ہیں تو یہ ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے
انگلش ٹیچر ہونے کے ناطے میری خوش قسمتی رہی ہے کہ مجھے انہی سٹوڈنٹس نے جوائن کیا ہے جو انگلش کی اہمیت سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ اسے اپنی کامیابی کی سیڑھی کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں. کسی بھی ٹیچر کے لیے سب سے بڑا خوشی کا مقام وہ ہوتا ہے جب اس کے سٹوڈنٹس اپنی کامیابی سے یہ ثابت کریں کہ انہیں پڑھانے والا ان سے اور اپنی جاب سے مخلص ہے. میں نے سوچا میں آج آپ کے ساتھ کچھ وہ لمحے شیئر کروں جو میرے لیے باعث فخر ہیں
احمد عدیل.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں