122

پاکستان میں بچوں کے بارے میں پائی جانے والی کچھ غلط فہمیاں۔

پاکستان میں بچوں کے بارے میں پائی جانے والی کچھ غلط فہمیاں۔

کچھ خرافات/غلطیاں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ نئی ماؤں اور بچوں کو اس مخمصے سے باہر نکلنے دیں ”’کے ہم نہیں تو بچے ایسے ہی پالے ہیں’“

1- ہر رونے میں پیناڈول دینا کہ کوئی تکلیف تو ہو گی .
2- بمشکل 3 ماہ کے بچے کو سیریلیک، گلوکو بسکٹ، کسٹرڈ وغیرہ دینا۔
3- دانتوں میں بائیو 21 دینا۔ یہ بہت راحت بخش ہے۔ لیکن ایف ڈی اے نے منظوری نہیں دی۔ یہ دانتوں کی اینکیلوسس کا سبب بن سکتا ہے۔ (آپ اس اصطلاح کو گوگل کر سکتے ہیں)
4- شیر خوار بچوں کے جسم کے بالوں کو ختم کرنے کے لیے آٹے کا گولا قسم کی چیز رگڑنا۔
5- بچے کا سر بنانے کے عمل کے لیے پلیٹ کو سر کے نیچے رکھنا۔ فلیٹ ہیڈ سنڈروم کا سبب بن سکتا ہے۔
6- 1 سال کی عمر سے پہلے شہد دینا بچے میں بوٹولزم کروا سکتا ہے۔
7- ایک سے پہلے گائے کا دودھ دینا۔ گائے کے دودھ کی ساخت اور اس کا بچے کے گردے پر اثر ہے۔ اور اس کی وجہ سے آئرن کی کمی کے بارے میں پڑھنا نہ بھولیں کیونکہ اس دودھ میں آئرن نہیں ہوتا
8- ضرورت سے زیادہ چینی اور نمک ایک سال سے پہلے ۔
9- چھ ماہ سے پہلے پانی دینا۔ جیسا کہ مدر فیڈ کے معاملے میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔
10- کاجل/سورما لگانا۔ آنکھوں میں انفیکشن، آنسو کی نالی میں رکاوٹ اور آنکھوں کے دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

11- فینرگن یا دیگر سکون آور ادویات دینا۔
13- ماں کا یہ تصور کبھی بھی بچے کی خوراک کافی نہیں ہے۔ ‘پیٹ نہیں بھرتا’
14- دو سال کی عمر کے بعد ضرورت سے زیادہ دودھ دینا ۔
15- بچے کو ہونٹوں/گال پر بوسہ دینا
16- بچے کی نشوونما کا دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا۔
17- واکر کا استعمال۔ آپ اس کے نتائج پر تحقیق کر سکتے ہیں۔
18- اوور لیئرنگ جو بچے کو زیادہ گرم کرنے اور پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

19- وٹامن ڈی سپلیمنٹ کو خاطرناک سمجھنا۔

کیٹاگری میں : Health

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں