120

یقیں ہےمجھ کو

ادب والوں سے
علم سکھانے والوں سے
محبت کےمتوالوں سے
انسانیت کے رکھوالوں سے
جان بچانے والوں سے
ہاں صبح نور اجالوں سے
میرا تعلق
بہت پرانا
سدا رہا ہے
سدا رہے گا
یقیں ہے مجھ کو
پھول سے خوشبوؤں کا رشتہ
گل رنگ فسانہ
سدا رہا ہے
سدا رہے گا
یقیں ہے مجھ کو
طائران چمن سے کہہ دو
گل و عنادل کا چہچہانا
سدا رہا ہے
سدا رہے گا
یقیں ہے مجھ کو
پھولوں کی انجمن میں لوگو
تتلیوں کا یہ آستانہ
سدا رہا ہے
سدا رہے گا
یقیں ہے مجھ کو
ادب کے کاشانۂ چمن میں
جگنوؤں کا یہ جھلملانا
سدا رہا ہے
سدا رہے گا
یقیں ہے مجھ کو
مہتاب کی ضوفشانیوں میں
لاکھوں تاروں کا ٹمٹمانا
سدا رھا ہے
سدا رہے گا
یقیں ہے مجھ کو
ادب کی برکھا کی رم جھم میں
قطرے قطرے سے فیض پانا
سدا رہا ہے
سدا رہے گا
یقیں ہےمجھ کو
از قلم:
سعدیہ وحید سعدی

کیٹاگری میں : Poetry

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں